30 اگست 2026 - 12:56
صنعا: عربستان کو بحیرۂ احمر میں شکست تسلیم کرنا پڑے گی

یمن کے سیاسی و عسکری حلقوں کا کہنا ہے کہ بحیرۂ احمر میں سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے سمندری دباؤ کے اثرات اب واضح ہونے لگے ہیں اور ریاض بالآخر اپنی بندرگاہوں کے ذریعے معمول کے مطابق تیل اور تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مشکلات کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،یمن کے سیاسی و عسکری حلقوں کا کہنا ہے کہ بحیرۂ احمر میں سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے سمندری دباؤ کے اثرات اب واضح ہونے لگے ہیں اور ریاض بالآخر اپنی بندرگاہوں کے ذریعے معمول کے مطابق تیل اور تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مشکلات کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے مشیر محمد طاہر انعم نے کہا ہے کہ سعودی میڈیا کی جانب سے بحیرۂ احمر میں تیل کی برآمدات اور تجارتی سرگرمیوں کے معمول کے مطابق جاری رہنے کا تاثر حقیقت کو تبدیل نہیں کرتا۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی اسرائیلی میڈیا نے یمنی محاصرے کے دوران ایلات بندرگاہ پر پڑنے والے اثرات کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن بعد میں یہ بندرگاہ عملی طور پر بند ہو گئی۔

انعم کے مطابق صنعا کی جانب سے سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنانے اور مقررہ سمندری حدود میں بندرگاہوں کے استعمال کو روکنے کا اعلان برقرار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی بندرگاہوں سے محدود مدت تک برآمدات جاری رہنا محاصرے کے خاتمے یا اس کے اثرات کم ہونے کی علامت نہیں۔

یمنی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ موجودہ صورتحال محض سعودی تجارت کو عارضی طور پر روکنے کی کوشش نہیں، بلکہ ریاض کے نقل و حمل اور برآمدی نظام پر بتدریج دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے شپنگ اور آئل ٹینکر کمپنیوں کے لیے خطرات، بیمہ اخراجات اور نقل و حمل کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بحیرۂ احمر میں بعض سعودی تیل بردار جہازوں کی جانب سے راستے تبدیل کرنا اور دیگر بحری جہازوں کا اضافی حفاظتی اقدامات اختیار کرنا اس دباؤ کے ابتدائی اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔ طویل سمندری راستوں کے باعث سفر کا دورانیہ اور اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

محمد طاہر انعم کا کہنا تھا کہ صنعا کی نظر میں یہ محاذ صرف بندرگاہوں کی عارضی بندش تک محدود نہیں بلکہ سعودی معیشت پر مسلسل دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک جاری رہی تو ریاض کو بحیرۂ احمر کی بندرگاہوں کے ذریعے تیل کی معمول کی برآمدات متاثر ہونے کا اعتراف کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب یمنی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صنعا سعودی عرب کے خلاف کشیدگی کے ایک نئے مرحلے کی تیاری کر رہا ہے۔ ان ذرائع کے مطابق آئندہ مرحلے میں سعودی بحری جہازوں کے خلاف سمندری محاصرے کو مزید وسیع کیا جا سکتا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ کاروبار کرنے والے بعض غیر ملکی جہاز بھی اس دائرے میں آ سکتے ہیں۔

یمنی عسکری ذرائع کے مطابق سعودی عرب پر اقتصادی اور عسکری دباؤ میں اضافے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، تاہم کشیدگی کو روکنے کا راستہ اب بھی سعودی عرب کے اقدامات سے وابستہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha